میرا جی

میرا جی کا اصل نام محمد ثناءللہ ڈار تھا۔ وہ 25 مئی 1912 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کچھ نسلوں پہلے کشمیر سے آ کر گوجرانوالہ میں آباد ہو گیا تھا میراجی کے والد منشی مہتاب الدین ریلوے میں ٹھیکیداری کرتے تھے۔ میراجی کے بچپن اور نوجوانی کا کچھ حصہ ہندوستان کی ریاست گجرات میں گزرا ان کو نصابی کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جب کہ دوسری ادبی اور علمی کتابوں کا کیڑا تھے۔ وہ میٹرک کا امتحان نہیں پاس کر سکے۔ "ادبی دنیا" کے مدیر مولانا صلاح الدین منشی مہتاب الدین کے دوست تھے۔ منشی جی نے ریٹائرمنٹ کے بعد جو کچھ ملا تھا وہ مولانا صلاح الدین کے ساتھ تجارت میں لگا دیا لیکن پیسہ ڈوب گیا اور منشی جی کے تعلقات مولانا سے خراب ہو گئے۔ میٹرک میں فیل ہونے کے بعد میراجی نے باپ کی مرضی کے خلاف مولانا صلاح الدین کے رسالہ "ادبی دنیا" مین تیس روپے ماہوار پر ملازمت کر لی۔ اور یہیں سے ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا۔ "ادبی دنیا" میں کام کرتے ہوئے میرا جی نے بہت سے مغربی اور مشرقی شعراء کی زندگی اور ان کے ادب سے اردو دنیا کو باخبر کرنے کے لئے مضامین لکھے اور ان کی تخلیقات کے ترجمے کئے جو بعد میں "مشرق و مغرب کے نغمے" کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ اس عرصہ میں"ادبی دنیا" اور دیگر رسالوں میں ان کی طبع زاد تخلیقات شائع ہونے لگیں اور ان کے تنقیدی مضامین نے قارئین کو متوجہ کیا۔ لاہورمیں اسکول کے زمانہ میں ان کو ایک بنگالی لڑکی میرا سین سے عشق ہو گیا۔ یہ انتہائی شدید انفیچوئیشن تھا۔ اتنا شدید کہ ثناءللہ ڈار نے اپنا تخلص ساحری سے بدل کر میراجی رکھ لیا۔ میرا جی کی دستیاب شعری تخلیقات کو کلیات کی شکل میں جمع کیا جا چکا ہے جس میں 223 نظمیں، 136 گیت، 17 غزلیں، 22 منظوم تراجم 5ہزلیات اورمتفرقات شامل ہیں۔ نثر میں انہوں نے دامودر گپت کی قدیم سنسکرت کتاب"کٹنی متم"کا ترجمہ"نگار خانہ" کے نام سے کیا۔ متفرق تنقیدی مضامین اس کے علاوہ ہیں۔نومبر 1949ء کو ان کا انتقال ہو گیا جنازے میں پانچ آدمی تھے۔ اخترالایمان، مہندر ناتھ، مدھوسودن، نجم نقوی اور آنند بھوشن۔ تدفین میری لائن قبرسان میں ہوئی۔ تمام کوششوں کے باوجود بمبئی کے کسی اخبار نے ان کی موت پر ایک لائن کی خبر بھی نہیں شائع کی۔